عسکری بینک کی Mera Ghar Mera Ashiana اسکیم کے تحت اب اپنا گھر بنانا ہوا اور بھی آسان۔ پانچ فیصد رعایتی شرح سود، بیس سالہ طویل مدت اور اسلامی بینکاری کے اصولوں پر مبنی ہوم فنانسنگ کی مکمل تفصیلات یہاں دیکھیں
پاکستان میں اپنی چھت کا ہونا ہر خاندان کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے، لیکن زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تعمیراتی سامان کے مہنگے ہونے کی وجہ سے یہ خواب اکثر ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے عسکری بینک نے اپنی اسلامی بینکاری کی شاخ “الاخلاص” کے تعاون سے “میرا گھر میرا آشیانہ” نامی ایک شاندار اسکیم متعارف کروائی ہے۔ یہ اسکیم حکومتِ پاکستان کی خصوصی سبسڈی کے تحت چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے افراد کو اپنا ذاتی گھر یا فلیٹ خریدنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
Mera Ghar Mera Ashiana ایک شرعی اور آسان حل
عسکری بینک کی یہ اسکیم مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ روایتی سودی قرضوں کے برعکس، یہاں “الاخلاص” اسلامی بینکاری کے تحت جائیداد کی خریداری یا تعمیر کے لیے شراکت داری کی بنیاد پر رقم فراہم کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بینک آپ کے گھر کی ملکیت میں شریک ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے آپ رقم ادا کرتے ہیں، ملکیت آپ کے نام منتقل ہوتی جاتی ہے۔
رعایتی مارک اپ اور مالی فوائد
اس اسکیم کی سب سے بڑی کشش اس کی قیمت ہے جو کہ مارکیٹ کے دیگر قرضوں کے مقابلے میں انتہائی کم رکھی گئی ہے۔
ابتدائی دس سال: پہلے دس سالوں کے لیے آپ کو صرف پانچ فیصد کی رعایتی شرح پر ادائیگی کرنی ہوگی۔ یہ ایک بہت بڑا ریلیف ہے جو عام طور پر کسی دوسرے بینکنگ پروگرام میں میسر نہیں ہوتا۔
دس سال کے بعد: گیارہویں سال سے ادائیگی کی شرح “ایک سالہ کائبور” کے ساتھ تین فیصد اضافی رکھی گئی ہے، جو کہ اس وقت کی مارکیٹ صورتحال کے مطابق ہوگی۔
Mera Ghar Mera Ashiana میں فنانسنگ کی حد اور جائیداد کا سائز
حکومت اور بینک نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ اسکیم مختلف ضرورتوں والے افراد کے لیے موزوں ہو۔
زیادہ سے زیادہ فنانسنگ کی حد
امیدوار اپنی پسند کی جائیداد خریدنے کے لیے ایک کروڑ (دس ملین) روپے تک کی رقم حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ رقم گھر کی تعمیر، پلاٹ کی خریداری یا بنے بنائے مکان اور اپارٹمنٹ کی خریداری کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
گھر اور فلیٹ کے لیے رقبہ کی حدود
اس اسکیم کے تحت جائیداد کے سائز پر بھی مخصوص حدود رکھی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد مستفید ہو سکیں:
مکان کے لیے: آپ دس مرلہ یا دو ہزار سات سو بیس مربع فٹ تک کے رقبے پر محیط گھر کے لیے فنانسنگ لے سکتے ہیں۔
فلیٹ کے لیے: اگر آپ شہر کے مرکز میں کسی اپارٹمنٹ یا فلیٹ میں رہنا چاہتے ہیں تو پندرہ سو مربع فٹ تک کے رقبے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
اسکیم کی منفرد خصوصیات اور سہولیات
عسکری بینک نے اس عمل کو اتنا سادہ بنایا ہے کہ ایک عام شہری بھی بغیر کسی پریشانی کے درخواست دے سکے۔
واپسی کی طویل مدت اور آسان اقساط
قرض کی واپسی کے لیے بیس سال تک کا طویل عرصہ دیا گیا ہے۔ اس طویل مدت کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی ماہانہ قسط بہت کم ہو جاتی ہے، جسے آپ اپنے ماہانہ کرایے کے برابر رقم میں آسانی سے ادا کر سکتے ہیں۔ گویا آپ کرایہ ادا کرنے کے بجائے اپنے گھر کی ملکیت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔
اضافی اخراجات سے نجات
اکثر بینک قرض دیتے وقت بھاری پروسیسنگ فیس لیتے ہیں، لیکن “میرا گھر میرا آشیانہ” کے تحت کوئی پروسیسنگ فیس وصول نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ، اگر آپ کے پاس رقم آ جائے اور آپ وقت سے پہلے اپنا قرض ادا کرنا چاہیں، تو اس پر بھی کوئی جرمانہ یا اضافی چارجز نہیں لیے جائیں گے۔

درخواست دینے کا طریقہ اور ضروری دستاویزات
اگر آپ اس اسکیم کے لیے اہل ہیں تو آپ کو قریبی عسکری بینک کی برانچ کا دورہ کرنا ہوگا۔ آپ کو اپنی آمدنی کے ثبوت کے طور پر تنخواہ کی پرچی یا کاروباری ثبوت، شناختی کارڈ کی کاپی اور جس جائیداد کو آپ خریدنا چاہتے ہیں اس کے کاغذات فراہم کرنے ہوں گے۔ بینک کا عملہ آپ کی درخواست کی جانچ پڑتال کرے گا اور منظوری کے بعد رقم کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔
عام طور پر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یہ اسکیم صرف تنخواہ دار افراد کے لیے ہے؟
جی نہیں، تنخواہ دار افراد کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباری افراد اور پیشہ ور افراد (ڈاکٹرز، انجینئرز وغیرہ) بھی اپنی آمدنی کا ثبوت فراہم کر کے اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کیا پرانے گھر کی مرمت کے لیے رقم مل سکتی ہے؟
بنیادی طور پر یہ اسکیم نئے گھر کی خریداری یا تعمیر کے لیے ہے، تاہم مخصوص شرائط کے تحت گھر کی توسیع یا بہتری کے لیے بھی درخواست دی جا سکتی ہے۔
اگر میں پہلے دس سال میں گھر بیچنا چاہوں تو کیا ہوگا؟
اس حوالے سے بینک کی پالیسی مختلف ہو سکتی ہے، لیکن عام طور پر حکومتی سبسڈی والے گھروں کو ایک مخصوص مدت تک فروخت کرنے پر پابندی ہوتی ہے یا پھر سبسڈی کی رقم واپس کرنی پڑتی ہے۔
کائبور سے کیا مراد ہے؟
کائبور سے مراد وہ شرح سود ہے جس پر بینک آپس میں لین دین کرتے ہیں۔ دس سال کے بعد آپ کی قسط اس ریٹ کے مطابق تھوڑی بہت تبدیل ہو سکتی ہے۔
کیا غیر شادی شدہ افراد بھی درخواست دے سکتے ہیں؟
جی ہاں، ہر وہ پاکستانی شہری جس کے پاس مستقل آمدنی کا ذریعہ ہو اور وہ اپنی چھت بنانا چاہتا ہو، اس اسکیم کے لیے درخواست دینے کا اہل ہے۔






