حکومت پاکستان کی جانب سے کسانوں کے لیے 990 ملین روپے کے سمارٹ فارمنگ، ڈرونز اور جدید ٹریکٹرز کے میگا پروجیکٹ (NARC) کی مکمل تفصیلات جانیں۔
پاکستان میں زراعت کا ڈیجیٹل انقلاب: 990 ملین روپے کے سمارٹ فارمنگ منصوبے کی مکمل تفصیلات
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، جہاں ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی کمی اور روایتی طریقہِ کاشت کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے اور زراعت کو اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے، وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ (Ministry of National Food Security and Research) نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے ملک میں جدید زرعی ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ متعارف کرانے کے لیے 990 ملین روپے کے ایک میگا پروجیکٹ کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
یہ پانچ سالہ منصوبہ، جس کا آغاز جولائی 2026 سے ہو رہا ہے، نہ صرف کسانوں کی تقدیر بدل دے گا بلکہ مقامی مشینری بنانے والوں اور چھوٹے زرعی کاروباروں کے لیے بھی ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ اس آرٹیکل میں ہم اس منصوبے کی مکمل تفصیلات، اس میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز اور عام کسان کو ملنے والے فوائد کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
پروجیکٹ کا پس منظر اور بنیادی خدوخال
اس انقلابی منصوبے کو سرکاری طور پر “Establishment of Digital and Precision Agriculture Mechanization Facility” کا نام دیا گیا ہے۔ اس پورے پروجیکٹ کی نگرانی اور عملداری اسلام آباد میں واقع نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) کے ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹیٹیوٹ (AEI) کے سپرد کی گئی ہے۔
یہ ادارہ طویل عرصے سے پاکستان میں زرعی تحقیق پر کام کر رہا ہے، لیکن اس نئے فنڈنگ پیکج کے بعد یہ ادارہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہب میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ‘پریسیژن فارمنگ’ (Precision Farming) یا ‘درست زراعت’ کو فروغ دینا ہے، جس کا مطلب ہے کہ فصل کو بالکل اتنی ہی مقدار میں پانی، کھاد اور ادویات فراہم کی جائیں جتنی اسے ضرورت ہے، تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔
پریسیژن فارمنگ (Precision Farming) کیا ہے؟
روایتی زراعت میں کسان پورے کھیت میں ایک ہی مقدار میں کھاد اور پانی کا استعمال کرتا ہے، چاہے کھیت کے کسی خاص حصے کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اس کے برعکس، پریسیژن فارمنگ جدید سینسرز، سیٹلائٹ امیجری اور جی پی ایس (GPS) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کسان اپنے سمارٹ فون یا کمپیوٹر پر دیکھ سکتا ہے کہ کھیت کے کس حصے میں نمی کم ہے، کہاں کیڑوں کا حملہ ہوا ہے، اور کن پودوں کو زیادہ نائٹروجن کی ضرورت ہے۔ اس طرح نہ صرف لاگت میں زبردست کمی آتی ہے بلکہ فصل کی پیداوار اور معیار میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔
لیبارٹریز اور ریسرچ سینٹرز کی جدید کاری
اس 990 ملین روپے کے منصوبے کا ایک بڑا حصہ ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹیٹیوٹ (AEI) کی لیبارٹریز کو اپ گریڈ کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔ مقامی سطح پر جدید ترین زرعی آلات تیار کرنے کے لیے لیبارٹریز کو درج ذیل ٹیکنالوجیز سے لیس کیا جائے گا:
- تھری ڈی سکینرز (3D Scanners): ان سکینرز کی مدد سے غیر ملکی اور مہنگی زرعی مشینری کے پرزوں کو سکین کر کے ان کا ڈیجیٹل ماڈل تیار کیا جائے گا تاکہ انہیں مقامی سطح پر کم قیمت میں بنایا جا سکے۔
- کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن (CAD): انجینئرز CAD سافٹ ویئرز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی مٹی اور موسمی حالات کے مطابق نئی اور موثر زرعی مشینری ڈیزائن کریں گے۔
- سی این سی (CNC) مشینیں: یہ کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول ہونے والی مشینیں ہوتی ہیں جو لوہے اور دیگر دھاتوں کو انتہائی باریکی اور درستگی کے ساتھ تراش کر پیچیدہ پرزے بناتی ہیں۔
- لیزر کٹنگ سسٹمز: دھاتوں کی کٹائی کے لیے لیزر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا جس سے وقت کی بچت ہوگی اور مشینری کی پائیداری میں اضافہ ہوگا۔
ڈرونز (UAVs) اور زرعی روبوٹکس کا قیام
منصوبے کی سب سے شاندار اور پرکشش خصوصیت زراعت میں ڈرونز اور روبوٹکس کا استعمال ہے۔ پروجیکٹ کے تحت NARC میں ڈرونز (Unmanned Aerial Vehicles) اور ایگریکلچرل روبوٹکس کے لیے ایک علیحدہ اور جدید ترین سہولت (Facility) قائم کی جا رہی ہے۔
زرعی ڈرونز کے فوائد:
- فصلوں کی نگرانی: ڈرونز چند منٹوں میں سینکڑوں ایکڑ اراضی کا فضائی جائزہ لے کر فصلوں کی صحت کا ڈیٹا اکٹھا کر سکتے ہیں۔
- سپرے میں جدت: روایتی طریقے سے کیڑے مار ادویات کا سپرے کرنے میں کسانوں کی صحت کو خطرہ ہوتا ہے اور وقت بھی زیادہ لگتا ہے۔ ڈرونز کی مدد سے انتہائی کم وقت میں، اور عین اس جگہ پر سپرے کیا جا سکے گا جہاں بیماری موجود ہو۔ اس سے ادویات کی بچت بھی ہوگی۔
مقامی مینوفیکچرنگ اور سمارٹ ٹریکٹرز کی تیاری
اس منصوبے کا ہدف صرف باہر سے ٹیکنالوجی منگوانا نہیں ہے، بلکہ مقامی صنعت کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) پر مبنی آلات پاکستان میں ہی تیار کیے جائیں گے۔
آنے والے پانچ سالوں میں کم از کم 5 نئی جدید زرعی مشینیں مقامی طور پر ڈیزائن، تیار اور ٹیسٹ کی جائیں گی۔ ان میں جدید سینسرز سے لیس ہائی ٹیک، خودکار مشینری اور طاقتور نارنجی (Orange) رنگ کے ایسے سمارٹ ٹریکٹرز کی پروٹو ٹائپنگ شامل ہو سکتی ہے جو جی پی ایس آٹو سٹیئرنگ (GPS Auto-steering) کے ذریعے بغیر کسی انسانی غلطی کے سیدھی لائنوں میں ہل چلا سکیں اور بیج بو سکیں۔ اس سے مقامی مینوفیکچررز کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے اور امپورٹ بل میں کمی آئے گی۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کا انضمام
آئی او ٹی (IoT) سے مراد کھیتوں میں ایسے چھوٹے سینسرز لگانا ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعے آپس میں جڑے ہوں۔ یہ سینسرز مٹی کی نمی، درجہ حرارت، اور غذائی اجزاء کے بارے میں ریئل ٹائم (Real-time) ڈیٹا فراہم کریں گے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اس ڈیٹا کا تجزیہ کر کے کسانوں کو بروقت الرٹ بھیجے گی کہ کب پانی دینا ہے اور کب کھاد ڈالنی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) سے نمٹنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔
استعداد کار میں اضافہ اور کسانوں کی تربیت (Capacity Building)
کوئی بھی ٹیکنالوجی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اسے استعمال کرنے والے افراد کی مناسب تربیت نہ کی جائے۔ اس لیے 990 ملین روپے کے اس پیکیج میں کسانوں کی تربیت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
- ورکشاپس اور ٹریننگ سیشنز: ملک بھر میں جدید ٹیکنالوجی پر ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔
- فارمر فیلڈ ڈیز (Farmer Field Days): کسانوں کو کھیتوں میں بلا کر عملی طور پر ڈرونز اور جدید مشینری کا استعمال سکھایا جائے گا۔
- ہدف: اس پروگرام کے تحت 500 سے زائد کسانوں، ریسرچرز، اور مقامی مشینری بنانے والوں کو براہ راست تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس سے کسانوں کا روایتی سوچ سے نکل کر سمارٹ فارمنگ کی طرف رجحان بڑھے گا۔
قومی ترقیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگی
حکومتی حکام کے مطابق، ڈیجیٹل زراعت کا یہ منصوبہ پاکستان کے طویل مدتی معاشی اہداف سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ یہ منصوبہ درج ذیل حکومتی پالیسیوں کا حصہ ہے:
- 13واں پانچ سالہ منصوبہ (13th Five-Year Plan): جس کا مقصد ملکی پیداوار کو بڑھانا ہے۔
- 5Es فریم ورک (5Es Framework): جس میں Exports (برآمدات)، E-Pakistan (ڈیجیٹل پاکستان)، Environment (ماحولیات)، Energy (توانائی) اور Equity (مساوات) شامل ہیں۔ یہ منصوبہ ڈیجیٹل پاکستان اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کو براہ راست سپورٹ کرتا ہے۔
- نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پروگرام: زرعی شعبے میں جدت لانے کا ایک وسیع تر حکومتی وژن۔
چھوٹے کسانوں (Smallholder Farmers) کے لیے امید کی کرن
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی صرف بڑے زمینداروں کے لیے ہے۔ لیکن اس منصوبے کا ایک بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کو چھوٹے کسانوں کی پہنچ میں لانا ہے۔ مقامی سطح پر ڈرونز اور مشینری کی تیاری سے ان کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ مزید برآں، حکومت کسانوں کو یہ مشینری کرائے پر یا سبسڈائزڈ ریٹس پر فراہم کرنے کے ماڈلز پر بھی کام کر سکتی ہے، جس سے چھوٹے کسان بھی ‘ریسورس ایفیشنٹ فارمنگ’ (وسائل کے بہترین استعمال) سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
تکنیکی روزگار کے نئے مواقع (Employment Generation)
جدید زراعت صرف فصلیں نہیں اگاتی، بلکہ روزگار بھی پیدا کرتی ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں ملک میں ڈرون پائلٹس، ایگریکلچر ڈیٹا اینالسٹس، سمارٹ مشینری مکینکس اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے ہزاروں نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ دیہی علاقوں کا پڑھا لکھا نوجوان جو زراعت سے دور بھاگ رہا تھا، اب ٹیکنالوجی کی کشش کی وجہ سے دوبارہ اس شعبے کا رخ کرے گا۔
نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل
990 ملین روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا “Establishment of Digital and Precision Agriculture Mechanization Facility” کا یہ منصوبہ محض ایک سرکاری اعلان نہیں، بلکہ پاکستان کی زرعی بقا اور ترقی کا ایک واضح روڈ میپ ہے۔ آنے والے پانچ سالوں میں ہم پاکستان کے کھیتوں میں روایتی طریقوں کی جگہ سینسرز، ڈرونز، روبوٹس اور ڈیٹا ڈریون (Data-driven) فیصلوں کو لیتے ہوئے دیکھیں گے۔ یہ منصوبہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے، فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے ایک انتہائی اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: حکومتِ پاکستان کا نیا زرعی منصوبہ کتنی مالیت کا ہے اور کب شروع ہوگا؟
جواب: حکومت نے جدید زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 990 ملین روپے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا باقاعدہ آغاز جولائی 2026 سے متوقع ہے۔
سوال 2: اس سمارٹ فارمنگ پروجیکٹ کو کون سا ادارہ چلا رہا ہے؟
جواب: اس منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری اسلام آباد میں واقع نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) کے ماتحت ادارے ‘ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹیٹیوٹ (AEI)’ کی ہے۔
سوال 3: پریسیژن فارمنگ یا ڈیجیٹل زراعت کے کیا فوائد ہیں؟
جواب: اس کے ذریعے کسان فصل کی ضرورت کے عین مطابق پانی، کھاد اور ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف لاگت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی زبردست اضافہ ہوتا ہے۔
سوال 4: کیا اس منصوبے میں عام کسانوں کو کوئی تربیت دی جائے گی؟
جواب: جی ہاں، اس منصوبے کے تحت ‘فارمر فیلڈ ڈیز’ اور ورکشاپس منعقد کی جائیں گی جن میں 500 سے زائد کسانوں، ریسرچرز اور مقامی صنعت کاروں کو جدید مشینری اور ڈرونز کے استعمال کی عملی تربیت دی جائے گی۔
سوال 5: کیا پاکستان میں جدید زرعی مشینری مقامی طور پر بنائی جائے گی؟
جواب: بالکل، اس پانچ سالہ منصوبے کا ایک اہم ہدف یہ ہے کہ ڈرونز، روبوٹکس اور سمارٹ ٹریکٹرز جیسی کم از کم 5 نئی مشینیں مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کی جائیں تاکہ درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔








