Maryam Nawaz’s Big Move Dial ‘Zero’ to Report Complaints at Sahulat Bazars – Full Details

By: Huma Shah

On: Saturday, March 28, 2026 7:59 AM

chief minister maryam nawaz sharif launches new telephone booth system for public complaints in punjab sahulat bazars direct feedback loop for citizens price hiker control initiative
Google News
Follow Us

پنجاب حکومت نے عوام کو ریلیف دینے اور اشیاء خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک جدید اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر کے سہولت بازاروں میں خصوصی ٹیلی فون بوتھ قائم کر دیے گئے ہیں۔ اب کوئی بھی شہری صرف ‘زیرو’ (0) ڈائل کر کے اپنی شکایت یا تجویز براہ راست حکام تک پہنچا سکتا ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے، سہولت بازاروں کا مقصد کیا ہے اور یہ اقدام مہنگائی کے خلاف جنگ میں کتنا سودمند ثابت ہوگا۔

سہولت بازار ٹیلی فون بوتھ: ‘فون اٹھائیں، زیرو ملائیں’

پنجاب حکومت کا نیا نعرہ “فون اٹھائیں، زیرو ملائیں” سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں کافی مقبول ہو رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بیوروکریسی اور عوام کے درمیان حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔

اس اقدام کے کلیدی نکات

براہ راست رسائی: عوام کو کسی دفتر جانے یا لمبی لائنوں میں لگنے کی ضرورت نہیں۔

فوری ایکشن: شکایت ملتے ہی متعلقہ مارکیٹ کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کیا جاتا ہے۔

شفافیت: فون بوتھ کی موجودگی سے دکانداروں اور ذخیرہ اندوزوں میں خوف پیدا ہوگا کہ ان کی شکایت فوری ہو سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کا وژن: ‘عوام کی دہلیز پر انصاف’

وزیراعلیٰ مریم نواز نے عہدہ سنبھالتے ہی “رمضان نگہبان” اور اب “سہولت بازار” جیسے منصوبوں کے ذریعے اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ ہوگا اور مہنگائی کرنے والوں کے لیے پنجاب میں کوئی جگہ نہیں”۔

سہولت بازاروں کی اہمیت

سہولت بازار وہ مقامات ہیں جہاں حکومت پنجاب آٹا، چینی، دالیں، گھی اور سبزیاں مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر فراہم کر رہی ہے۔ ان بازاروں میں ٹیلی فون بوتھ کا قیام اس بات کی ضمانت ہے کہ وہاں دی جانے والی سبسڈی واقعی عام آدمی تک پہنچ رہی ہے۔

شکایت درج کرانے کا طریقہ کار

اگر آپ کسی سہولت بازار میں موجود ہیں اور آپ کو وہاں صفائی، قیمتوں یا عملے کے رویے سے متعلق کوئی شکایت ہے، تو ان مراحل پر عمل کریں

بوتھ تلاش کریں: سہولت بازار کے داخلی راستے یا نمایاں جگہ پر لگے ٹیلی فون بوتھ پر جائیں۔

نمبر ڈائل کریں: فون اٹھائیں اور بٹن سے ‘0’ (زیرو) دبائیں۔

تفصیلات فراہم کریں: اپنی شکایت کا اندراج کرائیں (مثلاً: چینی کی قیمت زیادہ ہے یا سٹاک ختم ہے)۔

فیڈ بیک دیں: آپ نظام کی بہتری کے لیے اپنی قیمتی رائے بھی دے سکتے ہیں۔

مہنگائی کا خاتمہ اور پرائس کنٹرول سسٹم

پنجاب میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے، لیکن عوامی شرکت کے بغیر یہ نظام مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ٹیلی فون بوتھ کا یہ ماڈل “کمیونٹی پولیسنگ” کی ایک شکل ہے جہاں شہری خود انتظامیہ کی آنکھ اور کان بن جاتے ہیں۔

اس سسٹم کے فوائد

مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ: دکاندار سرکاری ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی کرنے سے کترائیں گے۔

کوالٹی کنٹرول: صرف قیمت ہی نہیں بلکہ اشیاء کے معیار پر بھی چیک رکھا جا سکے گا۔

ڈیجیٹل مانیٹرنگ: تمام شکایات کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کس ضلع میں سب سے زیادہ مسائل ہیں۔

citizen using new complaint phone booth in pakistan sahulat bazar dial zero for price control feedback initiative maryam nawaz punjab government public relief program

سہولت بازاروں میں دستیاب اشیاء اور قیمتیں

حکومت پنجاب کی جانب سے ان بازاروں میں درج ذیل اشیاء پر خصوصی رعایت دی جا رہی ہے

آٹا اور چینی: اوپن مارکیٹ سے نمایاں کم قیمت پر۔

سبزیاں اور پھل: فارم ہاؤس ریٹس پر براہ راست فراہمی۔

گھی اور کوکنگ آئل: برانڈڈ اشیاء پر خصوصی ڈسکاؤن

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا اس فون کال کے چارجز ہوں گے؟

نہیں، یہ ٹیلی فون بوتھ مکمل طور پر مفت سہولت ہے، شہریوں سے کوئی چارجز نہیں لیے جاتے۔

اگر کوئی جھوٹی شکایت کرے تو کیا ہوگا؟

سسٹم میں کال ریکارڈنگ اور مانیٹرنگ موجود ہے۔ صرف جائز شکایات پر ہی کارروائی کی جاتی ہے اور ان کی تصدیق موقع پر موجود عملہ کرتا ہے۔

کیا یہ بوتھ پنجاب کے ہر شہر میں ہیں؟

ابتدائی طور پر بڑے شہروں کے بڑے سہولت بازاروں میں یہ بوتھ لگا دیے گئے ہیں اور جلد ہی اسے تمام اضلاع تک پھیلایا جا رہا ہے۔

شکایت کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے؟

جی ہاں، حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق شکایت کنندہ کی شناخت کو محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی رائے دے سکے۔

خلاصہ

پنجاب حکومت کا سہولت بازاروں میں ٹیلی فون بوتھ کا قیام ایک جدید طرزِ حکمرانی کی مثال ہے۔ یہ نہ صرف شفافیت کو فروغ دے گا بلکہ عام آدمی کو یہ احساس دلائے گا کہ حکومت ان کے مسائل سننے کے لیے تیار ہے۔ اب وقت ہے کہ شہری بھی اپنی ذمہ داری نبھائیں اور جہاں بھی غلط ہوتا دیکھیں، وہاں “زیرو” ڈائل کر کے اپنا حق مانگیں۔

Huma Shah

Huma Shah is a passionate blogger and dedicated writer who creates informational blogs for public welfare. She focuses on sharing clear, helpful, and easy-to-understand content about government schemes, scholarships, job updates, financial assistance programs, and social awareness topics.

Join WhatsApp

Join Now

Leave a Comment