پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے کے غریب اور مستحق کینسر کے مریضوں کے لیے ایک انقلابی اور زندگی بچانے والے منصوبے “پنجاب کینسر کیئر کارڈ” کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ کینسر جیسا موذی مرض اب کسی غریب خاندان کی مالی تباہی کا سبب نہیں بنے گا، کیونکہ حکومت پنجاب نے مریضوں کی تشخیص سے لے کر ادویات اور سرجری تک کے تمام اخراجات خود اٹھانے کا ذمہ لے لیا ہے۔
اس تفصیلی آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کینسر کارڈ کیا ہے، اس کے لیے کون اہل ہے، رجسٹریشن کا طریقہ کیا ہے اور یہ کارڈ کن ہسپتالوں میں کارآمد ہوگا۔
کینسر کیئر کارڈ کیا ہے؟
کینسر کا علاج پاکستان میں بے حد مہنگا ہے، جہاں ایک ایک کیموتھراپی سیشن کی قیمت ہزاروں اور لاکھوں میں ہوتی ہے۔ کینسر کیئر کارڈ ایک مخصوص ہیلتھ کارڈ ہے جو صرف کینسر کے مریضوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے مریض سرکاری اور منتخب کردہ نجی ہسپتالوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ طبی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔
اس کارڈ کے تحت ملنے والی سہولیات
مفت کیموتھراپی: تمام مہنگی ادویات حکومت فراہم کرے گی۔
ریڈیو تھراپی: شعاعوں کے ذریعے علاج کے تمام سیشنز مفت ہوں گے۔
سرجری اور آپریشن: کینسر کی رسولی نکالنے یا دیگر آپریشنز کے اخراجات حکومت دے گی۔
تشخیصی ٹیسٹ: پی ای ٹی سکین ، سی ٹی سکین اور بائیوپسی جیسے مہنگے ٹیسٹ مفت ہوں گے۔
دیرپا ادویات: ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد گھر کے لیے ضروری ادویات کی فراہمی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا وژن اور پہلا کینسر ہسپتال
وزیراعلیٰ مریم نواز نے صرف کارڈ ہی نہیں بلکہ لاہور میں پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔ یہ ہسپتال اور کینسر کارڈ مل کر ایک ایسا مضبوط نظام بنائیں گے کہ پنجاب کا کوئی بھی شہری علاج کی سہولت سے محروم نہیں رہے گا۔
میرا مقصد ہے کہ کینسر کے مریض کو ہسپتال میں دھکے نہ کھانے پڑیں، بلکہ ہسپتال خود ان کی خدمت کرے۔ مریم نواز شریف
اہلیت کا معیار: کینسر کارڈ کون حاصل کر سکتا ہے؟
حکومت پنجاب نے اس کارڈ کے حصول کے لیے کچھ آسان شرائط رکھی ہیں تاکہ مستحق افراد تک ریلیف پہنچ سکے
پنجاب کی رہائش: درخواست گزار کے پاس پنجاب کا مستقل ایڈریس والا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے۔
آمدنی کی حد: یہ کارڈ خاص طور پر کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے لیے ہے (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے)۔
مرض کی تصدیق: کسی بھی سرکاری ہسپتال کے آنکولوجسٹ سے کینسر کی تشخیص کی مستند رپورٹ ہونا لازمی ہے۔
دیگر صوبوں کے مریض: فی الحال یہ سروس پنجاب کے ڈومیسائل ہولڈرز کے لیے ہے، تاہم ایمرجنسی کی صورت میں خصوصی اجازت نامے کا آپشن موجود ہے۔

رجسٹریشن کا طریقہ کار
کینسر کیئر کارڈ بنوانے کا عمل انتہائی سادہ اور ڈیجیٹل رکھا گیا ہے
1. آن لائن پورٹل
حکومت پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ پر “Cancer Care Portal” کے ذریعے آپ اپنی بنیادی معلومات اور میڈیکل رپورٹس اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔
2. ہسپتال کا ہیلپ ڈیسک
پنجاب کے تمام بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں (مثلاً میو ہسپتال، جناح ہسپتال، نشتر ہسپتال) میں مخصوص کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں عملہ آپ کی رجسٹریشن میں مدد کرے گا۔
3. تصدیقی عمل
آپ کی درخواست موصول ہونے کے بعد پنجاب ہیلتھ انیشیٹو مینجمنٹ کمپنی ڈیٹا کی تصدیق کرے گی اور آپ کو ایس ایم ایس کے ذریعے کارڈ کی منظوری کی اطلاع دی جائے گی۔
کینسر کارڈ کے سماجی اور معاشی اثرات
کینسر صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایک معاشی بوجھ ہے جو پورے خاندان کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیتا ہے۔
قرضوں سے نجات: غریب لوگ اب علاج کے لیے زمین یا زیور بیچنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔
اموات کی شرح میں کمی: بروقت تشخیص اور مفت علاج سے کینسر سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی آئے گی۔
نفسیاتی ریلیف: مریض اور اس کے لواحقین کو یہ اطمینان ہوگا کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا کینسر کیئر کارڈ اور صحت کارڈ ایک ہی ہیں؟
نہیں، کینسر کیئر کارڈ ایک خصوصی کارڈ ہے جس میں کینسر کے مہنگے علاج کے لیے الگ سے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں جو عام صحت کارڈ کی لمٹ سے زیادہ ہیں۔
کیا نجی ہسپتالوں میں بھی یہ کارڈ چلے گا؟
جی ہاں، حکومت نے کئی بڑے نجی کینسر ہسپتالوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جہاں کارڈ دکھا کر آپ مفت علاج کروا سکیں گے۔
اگر مریض کے پاس کارڈ نہ ہو اور ایمرجنسی ہو؟
ایسے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں “ایمرجنس کارڈ” کی سہولت موجود ہے جو موقع پر ہی عارضی طور پر فعال کر دیا جاتا ہے۔
کیا بچوں کا کینسر بھی اس میں شامل ہے؟
جی ہاں، بچوں کے کینسر کے تمام اخراجات اس کارڈ کے تحت مکمل طور پر کورڈ ہیں۔
خلاصہ
پنجاب کینسر کیئر کارڈ وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جسے آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔ صحت کے شعبے میں اس طرح کی سرمایہ کاری ثابت کرتی ہے کہ حکومت کی ترجیح انسانی جان بچانا ہے۔ اگر آپ یا آپ کے گردونواح میں کوئی کینسر کا مریض ہے، تو فوری طور پر اس کارڈ کے لیے اپلائی کریں اور اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔






